رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
میں تِرے دام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
اب کوئی کام محبت کے سِوا مُجھ کو نہیں
اب اگر کام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
جپ رہا ہُوں یہ تِرا نام تو میں زِندہ ہُوں
میں تِرے نام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
میرے ہونے کی علامت ہے فلک پر یہ شفق
منظرِ شام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
منظرِ عام پہ آنے سے یہ اِحساس ہُوا
منظرِ عام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
یہ مِرا گھر یہ در و بام مِری زِندگی ہیں
جب در و بام سے نکلوں گا تو مر جاؤں گا
میں ہُوں کیفی، مِری دُنیا سے نِکالو نہ مْجھے
گردِشِ جام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
